12:28 , 2 مئی 2026
Watch Live

فائبر آپٹک ڈرونز نے جنوبی لبنان میں اسرائیلی فوج کے لیے نئی مشکلات پیدا کر دیں

فائبر آپٹک ڈرونز اسرائیل حزب اللہ لبنان
فائبر آپٹک ڈرونز اسرائیل حزب اللہ لبنان

حزب اللہ کی جانب سے استعمال کیے جانے والے کم قیمت فائبر آپٹک ڈرونز نے جنوبی لبنان میں اسرائیلی فوج کے لیے نئے اور سنگین چیلنجز پیدا کر دیے ہیں، جس کے باعث اسرائیلی فوج کو اپنی جنگی حکمت عملی میں تبدیلی کرنا پڑ رہی ہے۔

اسرائیلی فوج، جسے دنیا کی جدید ترین افواج میں شمار کیا جاتا ہے، نے تصدیق کی ہے کہ ایک ہفتے سے بھی کم عرصے میں ان ڈرون حملوں میں دو فوجی اور ایک سویلین کنٹریکٹر ہلاک ہو چکے ہیں، جبکہ کئی دیگر افراد زخمی بھی ہوئے ہیں۔ یہ واقعات ایسے وقت میں پیش آئے ہیں جب اپریل کے وسط سے جنگ بندی نافذ ہے، تاہم اس کے باوجود جھڑپیں جاری ہیں۔

ماہرین کے مطابق یہ ڈرونز انتہائی سستے، چھوٹے اور عام طور پر دستیاب ہیں، جو بظاہر بچوں کے کھلونوں جیسے دکھائی دیتے ہیں۔ اسرائیل کے انسٹی ٹیوٹ فار نیشنل سیکیورٹی اسٹڈیز کی سینئر محقق اورنا میزراحی نے کہا کہ فوج ان کم ٹیکنالوجی لیکن مہلک ہتھیاروں کے لیے پہلے سے تیار نہیں تھی۔

باجوڑ کرکٹ گراؤنڈ پر کواڈ کاپٹر حملہ، تین افراد زخمی

یہ ڈرونز روایتی GPS یا ریڈیو سگنلز کے بجائے ایک باریک فائبر آپٹک کیبل کے ذریعے کنٹرول کیے جاتے ہیں، جو انہیں جامنگ اور الیکٹرانک وارفیئر سے محفوظ بناتا ہے۔ ماہرین کے مطابق یہی خصوصیت انہیں مزید خطرناک بناتی ہے۔

حزب اللہ کے میڈیا چیف کے مطابق یہ ڈرونز لبنان میں ہی تیار کیے جا رہے ہیں اور ان کی تیاری کی لاگت چند سو ڈالر سے لے کر چند ہزار ڈالر تک ہو سکتی ہے۔

اسرائیلی دفاعی حکام کے مطابق ان ڈرونز کو مار گرانا مہنگا اور غیر مؤثر ثابت ہو رہا ہے، جس کے لیے لیزر ٹیکنالوجی اور دیگر نئے طریقوں پر غور کیا جا رہا ہے۔ فوج نے یہ بھی اعتراف کیا ہے کہ وہ یوکرین جنگ سے سیکھنے کی کوشش کر رہی ہے، جہاں ایسے ڈرونز عام استعمال ہو رہے ہیں۔

اسرائیلی فوج نے کہا ہے کہ وہ اس خطرے کا تفصیلی تجزیہ کر رہی ہے اور اپنی دفاعی حکمت عملی کو مسلسل بہتر بنا رہی ہے۔

 

متعلقہ خبریں
اہم خبریں۔
ضرور دیکھیں
INNOVATION